دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا

پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک

کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا

میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا

اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا

اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگے

لوگوں کو جب آپس میں لڑانا نہیں آتا

ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانے

آنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا

تاریخ کی آنکھوں میں دھواں ہو گئے خود ہی

تم کو تو کوئی گھر بھی جلانا نہیں آتا