ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت

دل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت

ہائے کیا چیز ہے محرومی و غم کا رشتہ

مل گئے زیست کے ہر موڑ پہ غم خوار بہت

یاد احباب کی خوشبو سے مہکتی شامیں

کچھ کہو ہوتی ہیں کمبخت دل آزار بہت

عشق آوارہ کہاں قید در و بام کہاں

بے نواؤں کے لیے سایۂ دیوار بہت

دل کی رفتار بدل جاتی تھی آواز کے ساتھ

یاد آتا ہے وہ پیرایۂ گفتار بہت

ایک دن وقت بتائے گا جنوں کی عظمت

یوں تو ہم لوگ ہیں رسوا سر بازار بہت

وہ کشاکش ہے کہ جینا بھی ہے دوبھر تاباںؔ

عشق معصوم بہت حسن فسوں کار بہت