لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میں

درحقیقت عیب تھا جس کو ہنر سمجھا تھا میں

روشنی تھی آنکھ تھی منظر تھا پھر کچھ بھی نہ تھا

ہائے کس آشوب کو اپنی نظر سمجھا تھا میں

آسمانوں کو لپکتے ہیں زمیں زادے سبھی

مرغ آدم زاد کو بے بال و پر سمجھا تھا میں

''کن'' کا افسون ازل پھونکا گیا تھا جس گھڑی

مجھ کو اب بھی یاد ہے بار دگر سمجھا تھا میں

ہے کوئی؟ جو میرے اس لمحے پہ گریہ کر سکے

جب مجھے بالکل سمجھ نہ تھی مگر سمجھا تھا میں

اپنے بچوں کی طرح اس نے اڑایا مجھ کو ساتھ

جس ہوائے تند خو کو در بہ در سمجھا تھا میں

مجھ پہ فرسودہ عقائد کی عجب یلغار تھی

چھوٹے چھوٹے وسوسوں کو خیر و شر سمجھا تھا میں

ریگزار شب گزیدہ تجھ میں تاحد نظر

دھوپ کا آسیب تھا جس کو شجر سمجھا تھا میں

بے سر و سامانیوں کی انتہا تھی جعفریؔ

جب در و دیوار کو دیوار و در سمجھا تھا میں

باب حیرت جب تلک کھلتا لیاقت جعفریؔ

قیس کو فرہاد کو آشفتہ سر سمجھا تھا میں