قامت کو تیرے سرو صنوبر نہیں کہا

جیسا بھی تو تھا اس سے تو بڑھ کر نہیں کہا

اس سے ملے تو زعم تکلم کے باوجود

جو سوچ کر گئے وہی اکثر نہیں کہا

اتنی مروتیں تو کہاں دشمنوں میں تھیں

یاروں نے جو کہا مرے منہ پر نہیں کہا

مجھ سا گناہ گار سر دار کہہ گیا

واعظ نے جو سخن سر منبر نہیں کہا

برہم بس اس خطا پہ امیران شہر ہیں

ان جوہڑوں کو میں نے سمندر نہیں کہا

یہ لوگ میری فرد عمل دیکھتے ہیں کیوں

میں نے فرازؔ خود کو پیمبر نہیں کہا