یہ ہمارا شہر جو شہر کلیمؔ و شادؔ ہے

دوست اس کا آج کل چرخ ستم ایجاد ہے

اک زمانہ تھا کہ گنگا کا یہ ہمسایہ نگر

شعر و حکمت کے لیے تھا درس گاہ معتبر

بھائی چارہ اور روا داری کا تھا ہر سو رواج

اپنے اپنے شغل میں مصروف رہتا تھا سماج

شاعران خوش نوا دن رات آتے تھے نظر

گنگناتے شعر کہتے ہر گلی کے موڑ پر

ایسے بے فکروں کو جن کی طبع موزوں ہی نہ تھی

شوق تھا کنکوے بازی کا، بجائے شاعری

ملک میں تحریک آزادی کا آیا دور جب

مشغلے تفریح کے، ڈھونڈے گئے کچھ اور تب

تھی کبھی تو بھوک ہڑتال اسٹرائک، مار دھاڑ

اور کبھی تھی نعرے بازی دھر اسے اس کو پچھاڑ

بعد آزادی نئی مصروفیت کا در کھلا

نیم تو ہے نیم ہی اس پر کریلا بھی چڑھا

اک نئی تحریک آئی لے کے کچھ تبدیلیاں

یعنی اب تفریح کا سامان نو ہیں ریلیاں

جس طرح ہوں کھیتیوں پر حملہ آور ٹڈیاں

یوں ہی اہل شہر کے حق میں ہیں لعنت ریلیاں

کرسیوں سے جو سیاست زادگاں محروم ہیں

ریلیاں ان کے لیے با مقصد و مفہوم ہیں

رنگ داروں کو ملا کر بھیڑ اکٹھی کی گئی

چپہ چپہ پر گلی کوچوں کے جو قابض ہوئی

دفعتاً مفلوج ہو کر رہ گیا ہر کام کاج

شہر میں چلتا رہا کچھ دیر تک راون کا راج

اتفاقاً گر کوئی دوکاں کھلی پائی گئی

خوب جی بھر کے وہ لوٹی اور جلوائی گئی

ہر در و دیوار کے نیچے کھٹالوں کی قطار

بیچ سڑکوں پر مویشی اور غلاظت کی بہار

اور اس منظر کے پیچھے ریلی بازوں کا ہجوم

تجھ کو لے آیا کہاں اے شہر تیرا بخت شوم